Salam Ko Aam Kijiye

Book Name:Salam Ko Aam Kijiye

سلام میں پہل کیجئے!

یہ بھی بڑی دِلچسپ بات ہے، سلام کرنا سُنّت اور جواب دینا واجب ہے،مگر یہ وہ سُنّت ہے، جس کا ثواب واجب سے زیادہ ہے۔ جی ہاں!  فرمانِ مصطفےٰ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم ہے:جب 2 مسلمان ملاقات کرتے ہیں اور ان میں سے ایک اپنے ساتھی کو سلام کرتا ہے توان میں سے اللہ پاک کے نزدیک زیادہ مَحْبُوب (یعنی پیارا)وہ ہوتا ہے جو اپنے ساتھی سے زیادہ گرم جوشی سے ملاقات کرتاہے،پھر جب وہ ہاتھ ملاتے ہیں تو اُن پر 100رَحمتیں نازِل ہوتی ہیں ان میں سے 90 رَحمتیں(سلام میں) پَہَل کرنے والے کے لئے اور 10 ہاتھ ملانے والے کے لئے ہیں۔([1])

پیارے اسلامی بھائیو! یہ طریقہ بھی ہمیں اپنانا چاہئے! یہ اپنا پکّا ذِہن بنا لیں کہ جب بھی کسی سے مُلاقات ہوا کرے گی، سلام میں پہل میں نے ہی کرنی ہے۔ حدیثِ پاک میں ہے: اللہ پاک کا زیادہ مقرَّب وہ ہے،  جو سلام میں پہل کرتا ہے۔ ایک مرتبہ پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کی خِدْمت میں سُوال ہوا: یارسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم سلام میں پہل کِسے کرنی چاہئے؟ فرمایا: جو اللہ پاک کا قُرْب زیادہ رکھتا ہو۔([2])

سُبْحٰنَ اللہ! کیا شان ہے...!! اللہ پاک کا قرب پانے کا آسان ترِین ذریعہ ہے؛ سلام میں پہل کی عادَت بنا لیں، اللہ پاک آپ کو اپنا قرب عطا فرما دے گا۔

سلام میں پہل عاجزی کی نشانی ہے

ذِہن میں آ رہا ہو گا کہ اتنے آسان عَمَل پر اتنا بڑا اَجْر کیسے مِل سکتا ہے...؟ اَصْل میں یہ


 

 



[1]...مسندِ بزّار ،جلد:1 ،صفحہ:437،حدیث:308۔

[2]...ترمذی، کتاب الاستئذان، باب ماجاء فی فضل الذی یبدا بالسلام، صفحہ:634، حدیث:2694۔