Book Name:Salam Ko Aam Kijiye
سُبْحٰنَ اللہ! کاش! ہمیں بھی یہ سعادت مِل جائے۔ سلام میں پہل کی عادَت بنا لیں۔ کوئی چھوٹا ہو یا بڑا، ہمارا استاد ہو یا شاگِرد، نوکر ہو یا مقتدی بس ذِہن ہونا چاہئے کہ سلام میں پہل میں نے ہی کرنی ہے۔ حدیثِ پاک میں ہے: اَلْبَادِئُ بِالسَّلَامِ بَرِيْءٌ مِّنَ الْكِبْرِیعنی سلام میں پہل کرنے والا تکبر سے آزاد ہے۔ ([1])
ابوداؤد شریف کی حدیث پاک ہے:میرے اور آپ کے آقا،رسولِ خُداصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنے مسلمان بھائی کو ملے تو اسے سلام کرے، پِھر چلتے چلتے دونوں کے درمیان درخت، دیوار یا پتھر آجائے (مثلاً درمیان میں درخت آیا، ایک درخت کی اِس جانِب سے گزرا، دوسرا اُس جانِب سے، پِھر درخت سے آگے گزر کر) دوبارہ ملے تو پِھر سلام کرے۔ ([2])
پیارے اسلامی بھائیو! یہ بھی انداز ہمیں اپنانا چاہئے! یہ سوچ بہت مرتبہ دیکھنے کو ملتی ہے، ایک مرتبہ کی مُلاقات میں جب سلام کر لیا، اب گویا یہ پُورے دِن کے لئے کافی ہو گیا، دوبارہ چاہے 100مرتبہ بھی مِلیں لوگ سلام نہیں کرتے، یہ ذِہن بنا ہوتا ہے کہ ابھی صبح ہی تو سلام کیا تھا۔ یہ سوچ ٹھیک نہیں ہے۔ سلام کو عام کرنے کا حکم ہے، دِن میں چاہے ہزار مرتبہ ملاقات ہو بلکہ گھر ہی میں ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں جائیں تو سلام کریں۔ اِنْ شَآءَ اللہُ الْکَرِیْم! نیکیاں بھی ملیں گی اور ایک دوسرے کو دُعائیں دینا بھی