Pul Sirat Ke 7 Marahil

Book Name:Pul Sirat Ke 7 Marahil

بڑی سلاخیں ہوں گی، جس شخص کے بارے میں حکم ہو گا، اسے یہ سلاخیں پکڑ لیں گی، بعض لوگ تو وہ ہوں گے جو زخمی ہو کر نَجات پاجائیں گے اور بعض جہنّم میں گِرا دئیے جائیں گے۔ ([1])

آئیے! پُل صِراط پر حفاظت کی دُعا مانگتے ہیں:

یا الٰہی! جب چلُوں تاریک راہِ پُل صِراط                    آفتابِ ہاشِمی نورُالْھُدیٰ کا ساتھ ہو

یا الٰہی! جب سر شَمشِیر پر چلنا پڑے                                      ربِّ سلِّم کہنے والے غمزِدَا کا ساتھ ہو

یاالٰہی! نامۂ اعمال جب کُھلنے لگیں                                                  عیب پوشِ خلق ستارِخطا کا ساتھ ہو([2])

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                                               صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد

خواب دیکھ کر ہی بال سفید ہو گئے

امام اِبْنِ اَبِی دُنیا لکھتے ہیں: ایک نوجوان شخص تھا، اس کے سَر اور داڑھی کے سب بال سیاہ تھے، ایک رات وہ سویا تو خواب دیکھا کہ میدانِ محشر ہے، لوگوں کو جمع کیا گیا ہے، کیا دیکھتا ہے کہ آگ کی بڑی سی نہر ہے، اس کے اُوپَر پُل رکھا گیا ہے، لوگ اس پر سے گزر رہے ہیں، آواز دِی جا رہی ہیں: اے فُلاں! تم گزرو...!! جس جس کا نام پُکارا جا رہا ہے، وہ پُل صِراط سے گزر رہا ہے، کچھ تو اسے پار کرنے میں کامیاب ہو رہے ہیں، کچھ جہنّم میں گِر کر ہلاک ہو رہے ہیں۔ وہ شخص کہتا ہے: اتنے میں مجھے میرے نام سے پُکارا گیا، میں پُل صِراط پر چڑھا، یہ تلوار سے زیادہ تیز تھا، میں اس پر گزرتے ہوئے اِدھر اُدھر ڈگمگا رہا تھا۔ راوِی کہتے ہیں: یہ شخص جب سویا تھا تو اس کے سب بال سیاہ تھے مگر جب جاگا تو پُل صِراط


 

 



[1]... بہارِ شریعت، جلد:1، صفحہ:147-148، حصہ:1 ۔

[2]...حدائقِ بخشش، صفحہ:133 بتقدم و تاخر۔