Book Name:Pul Sirat Ke 7 Marahil
ہلاکت میں پڑ جائے گا۔ ([1])
معلوم ہوا؛ پُل صِراط سے گزر کر جنّت تک پہنچنے کے لئے پڑوسیوں کے ساتھ نیک سلوک کرنا بھی انتہائی ضروری ہے، ورنہ پُل صِراط پار نہیں ہو پائے گا۔
کمالِ ایمان کے لئے ضروری عَمَل
اے عاشقانِ رسول! اسلام میں پڑوسی کو بہت اہمیت دی گئی ہے،یہاں تک کہ وہ اَعْمَال جن کے ذریعے ہمارا اِیمان کامِل ہوتا ہے،اُن میں پڑوسی کے ساتھ حُسْنِ سلوک کو بھی شامِل کیا گیا ہے یعنی ہم اس وقت تک کامِل مؤمن نہیں بن سکتے جب تک پڑوسی کے حُقُوق ادا نہ کریں۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ عنہ سے روایت ہے، اللہ پاک کے آخری نبی، رسولِ ہاشمی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا:لَا یُؤْمِنُ عَبْدٌ لَّا یَاْمَنُ جَارُہٗ بَوَائِقَہٗ وہ بندہ (کامل) مؤمن نہیں جس کا پڑوسی اس کے شر سے محفوظ نہ ہو۔([2])
وہ ایمان والا نہیں ہو سکتا جو...
ایک مرتبہ اللہ پاک کے آخری نبی،رسولِ ہاشمی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے 3 بار اللہ پاک کی قسم اُٹھائی، فرمایا: وَاللہِ لَایُؤْمِنُ اللہ کی قسم! وہ مؤمن نہیں ہو سکتا وَاللہِ لَایُؤْمِنُ اللہ کی قسم! وہ مؤمن نہیں ہو سکتا وَاللہِ لَایُؤْمِنُ اللہ کی قسم! وہ مؤمن نہیں ہو سکتا۔ صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ عنہم نے عرض کیا: یا رسولَ اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ! کون مؤمن نہیں ہو سکتا؟ فرمایا: اَلَّذِیْ لَا یَاْمَنُ جَارُہٗ بَوَائِقَہٗ وہ جس کا پڑوسی اس کے شر سے محفوظ نہ ہو۔([3])
خیر خواہ ہم بھی پڑوسی کے بنیں یہ کرم یا مصطفےٰ فرمائیے!