Book Name:Pul Sirat Ke 7 Marahil
اتنے دَرْد سے روتےتھے کہ دیکھنے والوں کو بھی رونا آجاتا تھا۔ کاش! صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ عنہم کا صدقہ ہمیں بھی خوفِ خُدا سے رونا نصیب ہو جائے۔
ترے خوف سے تیرے ڈر سے ہمیشہ میں تھرتھر رہوں کانپتا یاالٰہی!([1])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
پُل صِراط تلوار کی دھار سے زیادہ تیز ہے
پیارے اسلامی بھائیو! واقعی پُل صِراط کا معاملہ بڑا ہی نَازُک ہے ۔ حضرتِ فُضیل بن عیاض رحمۃُ اللہِ علیہ سے منقول ہے : پُل صِراط کا سفر 15ہزا ر سال کی راہ ہے *5ہزار سال اوپر چڑھنے کے*5ہزار سال نیچے اُترنے کے *اور 5ہزار سال برابرکے ۔ پُل صِراط بال سے زِیادہ باریک اور تلوار کی دھار سے زیادہ تیز ہے۔([2])
بہارِ شریعت میں ہے: صِراط ایک پُل ہے جو جہنّم کی پشت پر رکھا جائے گا، جنّت میں جانے کا یہی راستہ ہے، سب سے پہلے نبی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم گزر فرمائیں گے ، پھر اور انبیا و مرسلین علیہم ُالسَّلاَم ، پھر یہ اُمت (یعنی مسلمان)پھر اور (نبیوں کی) اُمتیں گزریں گی ۔ سب لوگ اپنے اپنے اَعْمال کے مطابق مختلف انداز سے گزریں گے*بعض تو ایسے تیزی کے ساتھ گزریں گے جیسے بجلی کی چمک کہ ابھی چمکی اور ابھی غائب ہو گئی*بعض تیز ہواکی طرح *کوئی ایسے جیسے پرندہ اڑتا ہے *بعض جیسے گھوڑا دوڑتا ہے *بعض جیسے آدمی دوڑتا ہے *یہاں تک کہ بعض شخص پیٹھ کے بَل پر گھسٹتے ہوئے *اور کوئی چیونٹی کی چال جائے گا اور پُل صِراط کے دونوں طرف بڑے بڑے آنکڑے یعنی کھونٹی نما لوہے کی بڑی