Book Name:Pul Sirat Ke 7 Marahil
فاقے سے، مُفلسی سے، جہنّم کی آگ سے سب سے تمہیں بچائے گی اے بھائیو نماز!
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
(2):دوسرے مرحلے پر امانت کا سُوال ہو گا
پیارے اسلامی بھائیو! یہ پُل صِراط کے پہلے مرحلے کا بیان تھا، اگر بندہ نمازی ہوا تو اِنْ شَآءَ اللہُ الْکَرِیْم! پہلا مرحلہ آسانی سے پار کر لے گا، اب دوسرے مرحلے پر روکا جائے گا، یہاں امانت کے مُتَعَلِّق سُوال ہو گا، جو امانت دار ہوا، وہ نَجات پائے گا، ورنہ جہنّم میں گِر کر ہلاک ہو جائے گا۔([1])
پتا چلا؛ پُل صِراط سے پار اُتر نے کے لئے امانت دار ہونا بھی بہت ضروری ہے۔ افسوس! آج کل اس معاملے میں بھی کردار بہت بُرے ہوتے جا رہے ہیں، چند منٹ کے لئے کسی کے پاس امانت رکھتے ہوئے، سو بار سوچنا پڑتا ہے، لالچ اتنی بڑھ گئی ہے کہ لوگ چند ہزار روپے کی خاطِر خیانت کا گُنَاہ کما لیتے ہیں۔
یاد رکھئے! ہرمسلمان پر امانت داری واجِب، جبکہ خیانت کرنا (یعنی کسی نے امانت رکھوائی تو اس کی اجازت کے بغیر امانت میں تصَرُّف کرنا، اسے اپنے استعمال میں لانا یا کسی دوسرے کو دینا یا اس کی پُوری طرح حفاظت نہ کرنا وغیرہ) حرام اور جہنّم میں لے جانے والا کام ہے۔([2]) اللہ پاک قرآنِ کریم میں فرماتا ہے: