Book Name:Pul Sirat Ke 7 Marahil
فِسْق وفُجُور ہے اور فِسق وفُجُور (گناہ)دوزخ میں لے جاتا ہے ۔([1])
بارگا ہِ رسالت میں ایک شَخْص نےحاضِرہوکرعَرْض کی: یارَسُولَ اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ! جہنّم میں لے جانے والا عَمَل کونسا ہے ؟ فرمایا: جُھوٹ بولنا، جب بندہ جھوٹ بولتا ہے تو گُناہ کرتا ہے اور جب گُناہ کرتا ہے تو ناشُکری کرتا ہے اور جب ناشُکری کرتا ہے تو جہنّم میں داخِل ہوجاتا ہے۔([2])
ہائے نافرمانیاں بدکاریاں بے باکیاں آہ! نامے میں گناہوں کی بڑی بھرمار ہے
زِندگی کی شام ڈھلتی جارہی ہے ہائے نَفْس! گرم روز و شَب گناہوں کا ہی بس بازار ہے([3])
اللہ پاک کے آخری نبی، مکی مَدَنی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا:خَواب میں ایک شَخْص میرے پاس آیا اور بولا:چلئے!میں اُس کے ساتھ چَل دِیا، میں نے 2آدَمی دیکھے، ان میں ایک کھڑا اور دُوسرا بیٹھا تھا ، کھڑے ہوئے شَخْص کے ہاتھ میں لَوہے کا ایک اوزار تھا ، جسے وہ بیٹھےشَخْص کے ایک جبڑے میں ڈال کر اُسے گُدّی تک چیر دیتا، پھر نکال کر دُوسرے جبڑے میں ڈال کر چیرتا، اِتنے میں پہلے والاجبڑا اپنی اَصْلی حالت پرلَوٹ آتا، میں نے لانے والے شَخْص سے پُوچھا: یہ کیا ہے؟اُس نے کہا: یہ جُھوٹا شَخْص ہے، اِسے قِیامت تک قَبْر میں یہی عذاب دیا جا تا رہے گا۔([4])
ذرا غور کیجئے ! دُنیا میں داڑھ کادَرْد نہ سہہ سکنے والا،آخِرت میں جبڑے چِیرے جانے پر