Book Name:Pul Sirat Ke 7 Marahil
کی دہشت کے سبب اس کے سَر اور داڑھی کے سارے بال سفید ہو چکے تھے۔([1])
اللہُ اکبر! پیارے اسلامی بھائیو! پُل صِراط کی دہشت کا اندازہ لگائیے! جب قیامت کے اس خطرناک تَرِین مرحلے کو خواب میں دیکھنے کا یہ اَثَر ہے تو سوچئے! جب قیامت کے دِن حقیقت میں اس پر سے گزرنا پڑے گا، تب ہمارا حال کیا ہو گا...؟ آہ! پُل صِراط انتہائی خطرناک ہے مگر افسوس! ہم پِھر بھی غفلت سے بیدار نہیں ہوتے۔
دل ہائے! گناہوں سے! بیزار نہیں ہوتا مَغْلُوب شہا! نفسِ بدکار نہیں ہوتا
یہ سانس کی مالا اب ، بس ٹوٹنے والی ہے غفلت سے مگر دل کیوں بیدار نہیں ہوتا
گو لاکھ کروں کوشش، اصلاح نہیں ہوتی پاکیزہ گناہوں سے کردار نہیں ہوتا
اے رب کے حبیب آؤ! اے میرے طبیب آؤ! اچھا یہ گناہوں کا بیمار نہیں ہوتا([2])
کاش! ہمیں قبر و حشر، جہنّم اور پُل صِراط کا صحیح معنوں میں خوف نصیب ہو جائے، ورنہ حالات تو بس ایسے ہی ہیں، قبر و حشر کے اتنے بڑے بڑے خطرات ہمارے سامنے ہیں، اس کے باوُجُود ہمیں فضولیات ہی سے فرصت نہیں ملتی *نمازوں کی پابندی ہے جو ہو نہیں پاتی *کھاؤ، پیو اور جان بناؤ کا نعرہ ہم لگائے رکھتے ہیں *بس سیر و تفریح ہے *دوستوں کی بیٹھکیں ہیں *موبائِل فون پر نہ جانے کیسی کیسی مصروفیات ہم نے پال رکھی ہیں *خوش گپیاں ہانکتے رہتے ہیں *دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر ایک دوسرے پر جملے کسنا، اُونچی اُونچی ہنسنا، قہقہے لگانا ہماری عادات کا حصّہ ہے ۔ آہ! ہمارے حالات ایسی بےفِکْری والے ہیں جبکہ قبر و حشر اور پُل صِراط کے خطرات ہمارے سامنے ہیں۔