Pul Sirat Ke 7 Marahil

Book Name:Pul Sirat Ke 7 Marahil

کی نیند خراب ہو، کوئی بیچارہ بیمار ہے، اُسے تکلیف ہو، چھوٹے بچوں کی نیند اُڑ جائے، انہیں کوئی پروا نہیں ہوتی *بعض لوگ رات کے وقت گھر ایسا کام شروع کر دیتے ہیں جس سے شور پیدا ہوتا ہے، پڑوسیوں کی نیند میں خلل آتا ہے۔ ایسے کاموں سے بچنا چاہیےتاکہ پڑوسیوں کو تکلیف نہ ہو۔

پڑوسی کو بھائی! نہ ہر گز ستانا                                                                                وگرنہ جہنّم بنے گا ٹھکانا

ہمسائے کی بکری کو بھی تکلیف نہ دو...!

مسلمانوں کی امّی جان حضرت اُمِّ سلمہ   رَضِیَ اللہُ عنہا    فرماتی ہیں: ایک ہمسائے کی بکری ہمارے گھر داخِل ہو گئی اور اس نے روٹی منہ میں اُٹھا لی، چنانچہ میں بکری کی طرف گئی اور میں نے بکری کے جبڑے سے روٹی کھینچ لی۔ سرکارِ عالی وقار، مکی مدنی تاجدار  صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم  نے مجھے ایسا کرتے دیکھ لیا اور فرمایا: اے اُمِّ سلمہ! بکری کو تکلیف دینا تجھے امان نہ دے گا کیونکہ یہ بھی ہمسائے کو تکلیف دینے سے کچھ کم نہیں۔([1])

اللہُ اَکْبَر! اللہ پاک ہمارے بزرگوں پر رحمت فرمائے، یہ تقویٰ و پرہیز گاری کی کیسی کیسی مثال قائِم فرما گئے، آہ! آج کل ہمارے ہاں تو پڑوسیوں کے لئے پسند ہی وہ کیا جاتا ہے جو خُود کو پسند نہ ہو *اپنے گھر میں کچرا رکھنا کون پسند کرتا ہے؟ مگر کچرا کونڈی دُور ہوتی ہے، لہٰذا پڑوسی کے دروازے پر ہی رکھ دیتے ہیں *خواتین گھر کا فرش دھوتی ہیں، ظاہِر ہے گندا پانی اپنے صحن میں جمع رکھنا تو گوارا نہیں ہوتا، لہٰذا گلی میں بہا دیا جاتا ہے، جس سے گلی میں کیچڑ بھی ہو جاتا ہے، گزرنے والوں کو تکلیف پہنچتی ہے۔ یُوں اور بہت ساری صُورتیں ہیں کہ لوگ اپنے لئے وہ چیزیں پسند نہیں کرتے مگر پڑوسیوں کو اس میں مبتلا کر


 

 



[1]...مکارم الاخلاق للطبرانی، صفحہ:395، حدیث:239۔