Pul Sirat Ke 7 Marahil

Book Name:Pul Sirat Ke 7 Marahil

حضرت جنید بغدادی    رحمۃُ اللہِ علیہ    جو بہت بڑے وَلِیُّ اللہ ہوئے ہیں، آپ کو سید الطّائِفَہ (یعنی ولیوں کے سردار) بھی کہا جاتا ہے۔ آپ سلسلہ عالیہ قادریہ کے 11 وَیں شیخِ طریقت ہیں، حضور غوثِ پاک    رحمۃُ اللہِ علیہ    17 وَیں شیخ ہیں۔ یعنی حضرت جنید بغدادی    رحمۃُ اللہِ علیہ    پِیروں کے پِیْر حُضُور غوثِ پاک    رحمۃُ اللہِ علیہ    کے پِیروں میں سے ہیں۔ اس سے اندازہ لگائیے کہ آپ کتنی بلند رُتبہ ہستی ہوں گے۔

تذکرۃ الْاَوْلیا جو خواجہ فرید الدِّین عطّار    رحمۃُ اللہِ علیہ    کی کِتاب ہے، اس میں لکھا ہے: حضرت جنید بغدادی    رحمۃُ اللہِ علیہ    کا جب آخری وقت آیا تو آپ نے سجدے میں گِر کر رونا شروع کر دیا۔ لوگ اس کیفیت سے بڑے حیران ہوئے، عرض کیا: عالی جاہ! آپ تو بہت زیادہ عِبَادت گزار ہیں ( آپ روزانہ 400 نفل ادا فرماتے تھے، 20 سال ایسے گزارے کہ کبھی تکبیرِ اُوْلیٰ بھی فوت نہیں ہوتی تھی، ہر نماز تکبیرِ اُوْلیٰ کے ساتھ باجماعت ادا فرماتے تھے، ساری ساری رات اللہ، اللہ کرتے گزار دیتے، چنانچہ لوگوں نے عرض کیا: عالی جاہ! آپ تو بہت زیادہ عِبَادت گزار ہیں، ساری زندگی عبادت و ریاضت میں گزاری ہے) اس کے باوُجُود اب آخری وقت اتنا رَو رہے ہیں، اس کی کیا وجہ ہے؟

اب ولیوں کے سردار حضرت جنید بغدادی    رحمۃُ اللہِ علیہ    کا ایمان افروز، دِل کو تڑپا دینے والا اور خوفِ خُدا سے کپکپا دینے والا جواب سنیئے! فرمایا: میں اس وقت سے زیادہ کبھی رونے کا محتاج نہیں تھا، یہ کہہ کر آپ تِلاوتِ قرآنِ کریم میں مَصْرُوف ہو گئے، کچھ دیر بعد فرمایا: اس قرآنِ کریم سے زیادہ میرا کوئی ہمدرد نہیں، میں اس وقت اپنی عمر بھر کی عِبَادت کو ہوا میں لٹکی ہوئی دیکھ رہا ہوں، جسے تیز ہوا کے جھونکے اِدھر اُدھر لہرا رہے ہیں، میں