Book Name:Pul Sirat Ke 7 Marahil
کے نزدیک رَمْضَان شریف کی 27 وِیں رات ہی شبِ قدر ہوتی ہے۔ ([1])لہٰذا ہم اُمِّید کرتے ہیں کہ اَلحمدُ لِلّٰہ! آج شبِ قدر ہے*آج مغفرت کی رات ہے *رحمت کی رات ہے*آج وہ رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے*آج سلامتی کی رات ہے*آج فرشتوں کے زمین پر نزول کی رات ہے۔حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ عنہما سے روایت ہے، سرکارِ عالی وقار، مدینے کے تاجدار صَلّی اللہُ عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: جب شبِ قدر آتی ہے تو اللہ پاک کے حکم سے حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام ایک سبز جھنڈا لئے فرشتوں کی بہت بڑی فوج کے ساتھ زمین پر نزول فرماتے ہیں اور اس سبز جھنڈے کو کعبہ شریف پر لہرا دیتے ہیں، ایک روایت کے مطابق ان فرشتوں کی تعداد رُوئے زمین کی کنکریوں سے بھی زیادہ ہوتی ہے، یہ سب سلام ورحمت لے کر نازِل ہوتے ہیں۔ حدیثِ پاک میں ہے: حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام کے 100 بازُو ہیں، جن میں سے 2 بازو صِرْف اسی رات کھولتے ہیں، وہ بازو مشرق ومغرب میں پھیل جاتے ہیں، پھر حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام فرشتوں کو حکم دیتے ہیں کہ جو کوئی مسلمان آج رات نماز یا ذِکْرُ اللہ میں مَصْرُوف ہے اس سے سلام ومصافحہ کرو اور اُن کی دُعاؤں پر آمین بھی کہو! چنانچہ فرشتے آپ کے حکم پر عمل کرتے ہیں اور صبح تک یہی سلسلہ رہتا ہے۔([2])
پیارے اسلامی بھائیو! آج برکتوں والی رات ہے، اللہ پاک آج کی اس مُبارَک رات کا صدقہ ہم سب کی بےحساب مغفرت وبخشش فرمائے۔ہمیں پُل صِراط سے نجات عطا فرمائے*اللہ پاک آج کی رات کا صدقہ عطا فرمائے کہ ہمارا پُل صِراط سے بحفاظت گزر ہو جائے، اس خطرناک راہ پر ہمارے قدم نہ ڈگمگائیں *کاش! پیارے مَحْبُوب صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم